khwaja garib nawaz
Picture
Picture
ابليس کي مجلس شوري

1936ء


ابليس

يہ عناصر کا پرانا کھيل، يہ دنيائے دوں
ساکنان عرش اعظم کي تمناؤں کا خوں!
اس کي بربادي پہ آج آمادہ ہے وہ کارساز
جس نے اس کا نام رکھا تھا جہان کاف و نوں
ميں نے دکھلايا فرنگي کو ملوکيت کا خواب
ميں نے توڑا مسجد و دير و کليسا کا فسوں
ميں نے ناداروں کو سکھلايا سبق تقدير کا
ميں نے منعم کو ديا سرمايہ داري کا جنوں
کون کر سکتا ہے اس کي آتش سوزاں کو سرد
جس کے ہنگاموں ميں ہو ابليس کا سوز دروں
جس کي شاخيں ہوں ہماري آبياري سے بلند
کون کر سکتا ہے اس نخل کہن کو سرنگوں!


پہلا مشير


اس ميں کيا شک ہے کہ محکم ہے يہ ابليسي نظام
پختہ تر اس سے ہوئے خوئے غلامي ميں عوام
ہے ازل سے ان غريبوں کے مقدر ميں سجود
ان کي فطرت کا تقاضا ہے نماز بے قيام
آرزو اول تو پيدا ہو نہيں سکتي کہيں
ہو کہيں پيدا تو مر جاتي ہے يا رہتي ہے خام
يہ ہماري سعي پيہم کي کرامت ہے کہ آج
صوفي و ملا ملوکيت کے بندے ہيں تمام
طبع مشرق کے ليے موزوں يہي افيون تھي
ورنہ 'قوالي' سے کچھ کم تر نہيں 'علم کلام'!
ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقي تو کيا
کند ہو کر رہ گئي مومن کي تيغ بے نيام
کس کي نوميدي پہ حجت ہے يہ فرمان جديد؟
'ہے جہاد اس دور ميں مرد مسلماں پر حرام


دوسرا مشير



خير ہے سلطاني جمہور کا غوغا کہ شر
تو جہاں کے تازہ فتنوں سے نہيں ہے با خبر


پہلا مشير



ہوں، مگر ميري جہاں بيني بتاتي ہے مجھے
جو ملوکيت کا اک پردہ ہو، کيا اس سے خطر!
ہم نے خود شاہي کو پہنايا ہے جمہوري لباس
جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر
کاروبار شہرياري کي حقيقت اور ہے
يہ وجود مير و سلطاں پر نہيں ہے منحصر
مجلس ملت ہو يا پرويز کا دربار ہو
ہے وہ سلطاں، غير کي کھيتي پہ ہو جس کي نظر
تو نے کيا ديکھا نہيں مغرب کا جمہوري نظام
چہرہ روشن، اندروں چنگيز سے تاريک تر!


تيسرا مشير



روح سلطاني رہے باقي تو پھر کيا اضطراب
ہے مگر کيا اس يہودي کي شرارت کا جواب؟
وہ کليم بے تجلي، وہ مسيح بے صليب
نيست پيغمبر و ليکن در بغل دارد کتاب
کيا بتاؤں کيا ہے کافر کي نگاہ پردہ سوز
مشرق و مغرب کي قوموں کے ليے روز حساب!
اس سے بڑھ کر اور کيا ہوگا طبيعت کا فساد
توڑ دي بندوں نے آقاؤں کے خيموں کي طناب!


چوتھا مشير



توڑ اس کا رومہ الکبرے کے ايوانوں ميں ديکھ
آل سيزر کو دکھايا ہم نے پھر سيزر کا خواب
کون بحر روم کي موجوں سے ہے لپٹا ہوا
'گاہ بالد چوں صنوبر، گاہ نالد چوں رباب،


تيسرا مشير



ميں تو اس کي عاقبت بيني کا کچھ قائل نہيں
جس نے افرنگي سياست کو کيا يوں بے حجاب


پانچواں مشير
(ابليس کو مخاطب کرکے )


اے ترے سوز نفس سے کار عالم استوار
تو نے جب چاہا، کيا ہر پردگي کو آشکار
آب و گل تيري حرارت سے جہان سوز و ساز
ابلہ جنت تري تعليم سے دانائے کار
تجھ سے بڑھ کر فطرت آدم کا وہ محرم نہيں
سادہ دل بندوں ميں جو مشہور ہے پروردگار
کام تھا جن کا فقط تقديس و تسبيح و طواف
تيري غيرت سے ابد تک سرنگون و شرمسار
گرچہ ہيں تيرے مريد افرنگ کے ساحر تمام
اب مجھے ان کي فراست پر نہيں ہے اعتبار
وہ يہودي فتنہ گر، وہ روح مزدک کا بروز
ہر قبا ہونے کو ہے اس کے جنوں سے تار تار
زاغ دشتي ہو رہا ہے ہمسر شاہين و چرغ
کتني سرعت سے بدلتا ہے مزاج روزگار
چھا گئي آشفتہ ہو کر وسعت افلاک پر
جس کو ناداني سے ہم سمجھے تھے اک مشت غبار
فتنہء فردا کي ہيبت کا يہ عالم ہے کہ آج
کانپتے ہيں کوہسار و مرغزار و جوئبار
ميرے آقا! وہ جہاں زير و زبر ہونے کو ہے
جس جہاں کا ہے فقط تيري سيادت پر مدار


ابليس
(
اپنے مشيروں سے )



ہے مرے دست تصرف ميں جہان رنگ و بو
کيا زميں، کيا مہر و مہ، کيا آسمان تو بتو
ديکھ ليں گے اپني آنکھوں سے تماشا غرب و شرق
ميں نے جب گرما ديا اقوام يورپ کا لہو
کيا امامان سياست، کيا کليسا کے شيوخ
سب کو ديوانہ بنا سکتي ہے ميري ايک ہو
کارگاہ شيشہ جو ناداں سمجھتا ہے اسے
توڑ کر ديکھے تو اس تہذيب کے جام و سبو!
دست فطرت نے کيا ہے جن گريبانوں کو چاک
مزدکي منطق کي سوزن سے نہيں ہوتے رفو
کب ڈرا سکتے ہيں مجھ کو اشتراکي کوچہ گرد
يہ پريشاں روزگار، آشفتہ مغز، آشفتہ مو
ہے اگر مجھ کو خطر کوئي تو اس امت سے ہے
جس کي خاکستر ميں ہے اب تک شرار آرزو
خال خال اس قوم ميں اب تک نظر آتے ہيں وہ
کرتے ہيں اشک سحر گاہي سے جو ظالم وضو
جانتا ہے، جس پہ روشن باطن ايام ہے
مزدکيت فتنہ فردا نہيں، اسلام ہے!


(2)



جانتا ہوں ميں يہ امت حامل قرآں نہيں
ہے وہي سرمايہ داري بندہ مومن کا ديں
جانتا ہوں ميں کہ مشرق کي اندھيري رات ميں
بے يد بيضا ہے پيران حرم کي آستيں
عصر حاضر کے تقاضاؤں سے ہے ليکن يہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرع پيغمبر کہيں
الحذر! آئين پيغمبر سے سو بار الحذر
حافظ ناموس زن، مرد آزما، مرد آفريں
موت کا پيغام ہر نوع غلامي کے ليے
نے کوئي فغفور و خاقاں، نے فقير رہ نشيں
کرتا ہے دولت کو ہر آلودگي سے پاک صاف
منعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے اميں
اس سے بڑھ کر اور کيا فکر و عمل کا انقلاب
پادشاہوں کي نہيں، اللہ کي ہے يہ زميں!
چشم عالم سے رہے پوشيدہ يہ آئيں تو خوب
يہ غنيمت ہے کہ خود مومن ہے محروم يقيں
ہے يہي بہتر الہيات ميں الجھا رہے
يہ کتاب اللہ کي تاويلات ميں الجھا رہے


(3)



توڑ ڈاليں جس کي تکبيريں طلسم شش جہات
ہو نہ روشن اس خدا انديش کي تاريک رات
ابن مريم مر گيا يا زندہ جاويد ہے
ہيں صفات ذات حق، حق سے جدا يا عين ذات؟
آنے والے سے مسيح ناصري مقصود ہے
يا مجدد، جس ميں ہوں فرزند مريم کے صفات؟
ہيں کلام اللہ کے الفاظ حادث يا قديم
امت مرحوم کي ہے کس عقيدے ميں نجات؟
کيا مسلماں کے ليے کافي نہيں اس دور ميں
يہ الہيات کے ترشے ہوئے لات و منات؟
تم اسے بيگانہ رکھو عالم کردار سے
تا بساط زندگي ميں اس کے سب مہرے ہوں مات
خير اسي ميں ہے، قيامت تک رہے مومن غلام
چھوڑ کر اوروں کي خاطر يہ جہان بے ثبات
ہے وہي شعر و تصوف اس کے حق ميں خوب تر
جو چھپا دے اس کي آنکھوں سے تماشائے حيات
ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کي بيداري سے ميں
ہے حقيقت جس کے ديں کي احتساب کائنات
مست رکھو ذکر و فکر صبحگاہي ميں اسے
پختہ تر کر دو مزاج خانقاہي ميں اسے


بڈھے بلوچ    کي نصيحت بيٹے کو


ہو تيرے بياباں کي ہوا تجھ کو گوارا
اس دشت سے بہتر ہے نہ دلي نہ بخارا
جس سمت ميں چاہے صفت سيل رواں چل
وادي يہ ہماري ہے، وہ صحرا بھي ہمارا
غيرت ہے بڑي چيز جہان تگ و دو ميں
پہناتي ہے درويش کو تاج سر دارا
حاصل کسي کامل سے يہ پوشيدہ ہنر کر
کہتے ہيں کہ شيشے کو بنا سکتے ہيں خارا
افراد کے ہاتھوں ميں ہے اقوام کي تقدير
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
محروم رہا دولت دريا سے وہ غواص
کرتا نہيں جو صحبت ساحل سے کنارا
ديں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملت
ہے ايسي تجارت ميں مسلماں کا خسارا
دنيا کو ہے پھر معرکہء روح و بدن پيش
تہذيب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا
اللہ کو پامردي مومن پہ بھروسا
ابليس کو يورپ کي مشينوں کا سہارا
تقدير امم کيا ہے، کوئي کہہ نہيں سکتا
مومن کي فراست ہو تو کافي ہے اشارا
اخلاص عمل مانگ نيا گان کہن سے
'شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا ر


تصوير و    مصور





تصوير


کہا تصوير نے تصوير گر سے
نمائش ہے مري تيرے ہنر سے
وليکن کس قدر نا منصفي ہے
کہ تو پوشيدہ ہو ميري نظر سے!


مصور



گراں ہے چشم بينا ديدہ ور پر
جہاں بيني سے کيا گزري شرر پر!
نظر ، درد و غم و سوز و تب و تاب
تو اے ناداں، قناعت کر خبر پر


تصوير



خبر، عقل و خرد کي ناتواني
نظر، دل کي حيات جاوداني
نہيں ہے اس زمانے کي تگ و تاز
سزاوار حديث 'لن تراني'


مصور

عالم برزخ




مردہ اپني قبر سے


کيا شے ہے، کس امروز کا فردا ہے قيامت
اے ميرے شبستاں کہن! کيا ہے قيامت؟


قبر



اے مردئہ صد سالہ! تجھے کيا نہيں معلوم؟
ہر موت کا پوشيدہ تقاضا ہے قيامت!


مردہ



جس موت کا پوشيدہ تقاضا ہے قيامت
اس موت کے پھندے ميں گرفتار نہيں ميں
ہر چند کہ ہوں مردئہ صد سالہ وليکن
ظلمت کدہ خاک سے بيزار نہيں ميں
ہو روح پھر اک بار سوار بدن زار
ايسي ہے قيامت تو خريدار نہيں ميں


صدائے غيب



نے نصيب مار و کژدم، نے نصيب دام و دد
ہے فقط محکوم قوموں کے ليے مرگ ابد
بانگ اسرافيل ان کو زندہ کر سکتي نہيں
روح سے تھا زندگي ميں بھي تہي جن کا جسد
مر کے جي اٹھنا فقط آزاد مردوں کا ہے کام
گرچہ ہر ذي روح کي منزل ہے آغوش لحد


قبر

(اپنے مردہ سے )


آہ ، ظالم! تو جہاں ميں بندہ محکوم تھا
ناکميں نہ سمجھي تھي کہ ہے کيوں خاک ميري سوز

تيري ميت سے مري تاريکياں تاريک تر
تيري ميت سے زميں کا پردئہ ناموس چاک
الحذر، محکوم کي ميت سے سو بار الحذر
اے سرافيل! اے خدائے کائنات! اے جان پاک!


صدائے غيب



گرچہ برہم ہے قيامت سے نظام ہست و بود
ہيں اسي آشوب سے بے پردہ اسرار وجود
زلزلے سے کوہ و در اڑتے ہيں مانند سحاب
زلزلے سے واديوں ميں تازہ چشموں کي نمود
ہر نئي تعمير کو لازم ہے تخريب تمام
ہے اسي ميں مشکلات زندگاني کي کشود


زمين



آہ يہ مرگ دوام، آہ يہ رزم حيات
ختم بھي ہوگي کبھي کشمکش کائنات!
عقل کو ملتي نہيں اپنے بتوں سے نجات
عارف و عامي تمام بندئہ لات و منات
خوار ہوا کس قدر آدم يزداں صفات
قلب و نظر پر گراں ايسے جہاں کا ثبات
کيوں نہيں ہوتي سحر حضرت انساں کي رات؟


معزول    شہنشاہ






ہو مبارک اس شہنشاہ نکو فرجام کو
جس کي قرباني سے اسرار ملوکيت ہيں فاش
'شاہ' ہے برطانوي مندر ميں اک مٹي کا بت
جس کو کر سکتے ہيں، جب چاہيں پجاري پاش پاش
ہے يہ مشک آميز افيوں ہم غلاموں کے ليے
ساحر انگليس! مارا خواجہ ديگر تراش

دوزخي کي    مناجات


اس دير کہن ميں ہيں غرض مند پجاري
رنجيدہ بتوں سے ہوں تو کرتے ہيں خدا ياد
پوجا بھي ہے بے سود، نمازيں بھي ہيں بے سود
قسمت ہے غريبوں کي وہي نالہ و فرياد
ہيں گرچہ بلندي ميں عمارات فلک بوس
ہر شہر حقيقت ميں ہے ويرانہء آباد
تيشے کي کوئي گردش تقدير تو ديکھے
سيراب ہے پرويز، جگر تشنہ ہے فرہاد
يہ علم، يہ حکمت، يہ سياست، يہ تجارت
جو کچھ ہے، وہ ہے فکر ملوکانہ کي ايجاد
اللہ! ترا شکر کہ يہ خطہ پر سوز
سوداگر يورپ کي غلامي سے ہے آزاد

مسعود مرحوم


يہ مہر و مہ، يہ ستارے يہ آسمان کبود
کسے خبر کہ يہ عالم عدم ہے يا کہ وجود
خيال جادہ و منزل فسانہ و افسوں
کہ زندگي ہے سراپا رحيل بے مقصود
رہي نہ آہ ، زمانے کے ہاتھ سے باقي
وہ يادگار کمالات احمد و محمود
زوال علم و ہنر مرگ ناگہاں اس کي
وہ کارواں کا متاع گراں بہا مسعود!
مجھے رلاتي ہے اہل جہاں کي بيدردي
فغان مرغ سحر خواں کو جانتے ہيں سرود
نہ کہہ کہ صبر ميں پنہاں ہے چارئہ غم دوست
نہ کہہ کہ صبر معمائے موت کي ہے کشود
''دلے کہ عاشق و صابر بود مگر سنگ است
ز عشق تا بہ صبوري ہزار فرسنگ است''


(سعدي)


نہ مجھ سے پوچھ کہ عمر گريز پا کيا ہے
کسے خبر کہ يہ نيرنگ و سيميا کيا ہے
ہوا جو خاک سے پيدا، وہ خاک ميں مستور
مگر يہ غيبت صغري ہے يا فنا، کيا ہے!
غبار راہ کو بخشا گيا ہے ذوق جمال
خرد بتا نہيں سکتي کہ مدعا کيا ہے
دل و نظر بھي اسي آب و گل کے ہيں اعجاز
نہيں تو حضرت انساں کي انتہا کيا ہے؟
جہاں کي روح رواں 'لا الہ الا ھو،
مسيح و ميخ و چليپا ، يہ ماجرا کيا ہے!
قصاص خون تمنا کا مانگيے کس سے
گناہ گار ہے کون، اور خوں بہا کيا ہے
غميں مشو کہ بہ بند جہاں گرفتاريم
طلسم ہا شکند آں دلے کہ ما داريم
خودي ہے زندہ تو ہے موت اک مقام حيات
کہ عشق موت سے کرتا ہے امتحان ثبات
خودي ہے زندہ تو دريا ہے بے کرانہ ترا
ترے فراق ميں مضطر ہے موج نيل و فرات
خودي ہے مردہ تو مانند کاہ پيش نسيم
خودي ہے زندہ تو سلطان جملہ موجودات
نگاہ ايک تجلي سے ہے اگر محروم
دو صد ہزار تجلي تلافي مافات
مقام بندئہ مومن کا ہے ورائے سپہر
زميں سے تا بہ ثريا تمام لات و منات
حريم ذات ہے اس کا نشيمن ابدي
نہ تيرہ خاک لحد ہے، نہ جلوہ گاہ صفات
خود آگہاں کہ ازيں خاک داں بروں جستند
طلسم مہر و سپہر و ستارہ بشکستند

آواز غيب


آتي ہے دم صبح صدا عرش بريں سے
کھويا گيا کس طرح ترا جوہر ادراک!
کس طرح ہوا کند ترا نشتر تحقيق
ہوتے نہيں کيوں تجھ سے ستاروں کے جگر چاک
تو ظاہر و باطن کي خلافت کا سزاوار
کيا شعلہ بھي ہوتا ہے غلام خس و خاشاک
مہر و مہ و انجم نہيں محکوم ترے کيوں
کيوں تري نگاہوں سے لرزتے نہيں افلاک
اب تک ہے رواں گرچہ لہو تيري رگوں ميں
نے گرمي افکار، نہ انديشہ بے باک
روشن تو وہ ہوتي ہے، جہاں بيں نہيں ہوتي
جس آنکھ کے پردوں ميں نہيں ہے نگہ پاک
باقي نہ رہي تيري وہ آئينہ ضميري
اے کشتہء سلطاني و ملائي و پيري


مري    شاخ امل کا ہے ثمر کيا


مري شاخ امل کا ہے ثمر کيا
تري تقدير کي مجھ کو خبر کيا
کلي گل کي ہے محتاج کشود آج
نسيم صبح فردا پر نظر کيا

فراغت    دے اسے کار جہاں سے


فراغت دے اسے کار جہاں سے
کہ چھوٹے ہر نفس کے امتحاں سے
ہوا پيري سے شيطاں کہنہ انديش
گناہ تازہ تر لائے کہاں سے

دگرگوں    عالم شام و سحر کر


دگرگوں عالم شام و سحر کر
جہان خشک و تر زير و زبر کر
رہے تيري خدائي داغ سے پاک
مرے بے ذوق سجدوں سے حذر کر

غريبي    ميں ہوں محسود اميري


غريبي ميں ہوں محسود اميري
کہ غيرت مند ہے ميري فقيري
حذر اس فقر و درويشي سے، جس نے
مسلماں کو سکھا دي سر بزيري

خرد    کي تنگ داماني سے فرياد


خرد کي تنگ داماني سے فرياد
تجلي کي فراواني سے فرياد
گوارا ہے اسے نظارئہ غير
نگہ کي نا مسلماني سے فرياد

کہا    اقبال نے شيخ حرم سے


کہا اقبال نے شيخ حرم سے
تہ محراب مسجد سو گيا کون
ندا مسجد کي ديواروں سے آئي
فرنگي بت کدے ميں کھو گيا کون؟

کہن    ہنگامہ ہائے آرزو سرد


کہن ہنگامہ ہائے آرزو سرد
کہ ہے مرد مسلماں کا لہو سرد
بتوں کو ميري لاديني مبارک
کہ ہے آج آتش 'اللہ ھو، سرد

حديث    بندئہ مومن دل آويز


حديث بندئہ مومن دل آويز
جگر پر خوں، نفس روشن، نگہ تيز
ميسر ہو کسے ديدار اس کا
کہ ہے وہ رونق محفل کم آميز

تميز خار و گل سے آشکارا


تميز خار و گل سے آشکارا
نسيم صبح کي روشن ضميري
حفاظت پھول کي ممکن نہيں ہے
اگر کانٹے ميں ہو خوئے حريري

نہ کر ذکر فراق و آشنائي


نہ کر ذکر فراق و آشنائي
کہ اصل زندگي ہے خود نمائي
نہ دريا کا زياں ہے، نے گہر کا
دل دريا سے گوہر کي جدائي

ترے دريا ميں طوفاں کيوں نہيں ہے


ترے دريا ميں طوفاں کيوں نہيں ہے
خودي تيري مسلماں کيوں نہيں ہے
عبث ہے شکوئہ تقدير يزداں
تو خود تقدير يزداں کيوں نہيں ہے؟

خرد ديکھے اگر دل کي نگہ سے


خرد ديکھے اگر دل کي نگہ سے
جہاں روشن ہے نور 'لا الہ' سے
فقط اک گردش شام و سحر ہے
اگر ديکھيں فروغ مہر و مہ سے

کبھي دريا سے مثل موج ابھر کر


کبھي دريا سے مثل موج ابھر کر
کبھي دريا کے سينے ميں اتر کر
کبھي دريا کے ساحل سے گزر کر
مقام اپني خودي کا فاش تر کر


ارمغان حجاز

(اردو)


ملا زادہ ضيغم لولا بي کشميري
کا بياض


پاني    ترے چشموں کا تڑپتا ہوا سيماب
مرغان سحر تيري فضاؤں ميں ہيں بيتاب

اے وادي لولاب

گر صاحب ہنگامہ نہ ہو منبر و محراب
ديں بندئہ مومن کے ليے موت ہے يا خواب

اے وادي لولاب

ہيں ساز پہ موقوف نوا ہائے جگر سوز
ڈھيلے ہوں اگر تار تو بے کار ہے مضراب

اے وادي لولاب

ملا کي نظر نور فراست سے ہے خالي
بے سوز ہے ميخانہء صوفي کي مے ناب

اے وادي لولاب

بيدار ہوں دل جس کي فغان سحري سے
اس قوم ميں مدت سے وہ درويش ہے ناياب

اے وادي لولاب


موت    ہے اک سخت تر جس کا غلامي ہے نام
مکر و فن خواجگي کاش سمجھتا غلام

شرع ملوکانہ ميں جدت احکام ديکھ
صور کا غوغا حلال، حشر کي لذت حرام!

اے کہ غلامي سے ہے روح تري مضمحل
سينہء بے سوز ميں ڈھونڈ خودي کا مقام

آج    وہ کشمير ہے محکوم و مجبور و فقير
کل جسے اہل نظر کہتے تھے ايران صغير
سينہء افلاک سے اٹھتي ہے آہ سوز ناک
مرد حق ہوتا ہے جب مرعوب سلطان و امير
کہہ رہا ہے داستاں بيدردي ايام کي
کوہ کے دامن ميں وہ غم خانہء دہقان پير
آہ! يہ قوم نجيب و چرب دست و تر دماغ
ہے کہاں روز مکافات اے خدائے دير گير؟


گرم    ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو
تھرتھراتا ہے جہان چار سوے و رنگ و بو
پاک ہوتا ہے ظن و تخميں سے انساں کا ضمير
کرتا ہے ہر راہ کو روشن چراغ آرزو
وہ پرانے چاک جن کو عقل سي سکتي نہيں
عشق سيتا ہے انھيں بے سوزن و تار رفو
ضربت پيہم سے ہو جاتا ہے آخر پاش پاش
حاکميت کا بت سنگيں دل و آئينہ رو

دراج    کي پرواز ميں ہے شوکت شاہيں
حيرت ميں ہے صياد، يہ شاہيں ہے کہ دراج!
ہر قوم کے افکار ميں پيدا ہے تلاطم
مشرق ميں ہے فردائے قيامت کي نمود آج
فطرت کے تقاضوں سے ہوا حشر پہ مجبور
وہ مردہ کہ تھا بانگ سرافيل کا محتاج

رندوں    کو بھي معلوم ہيں صوفي کے کمالات
ہر چند کہ مشہور نہيں ان کے کرامات
خود گيري و خودداري و گلبانگ 'انا الحق'
آزاد ہو سالک تو ہيں يہ اس کے مقامات
محکوم ہو سالک تو يہي اس کا 'ہمہ اوست'
خود مردہ و خود مرقد و خود مرگ مفاجات

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبيري
کہ فقر خانقاہي ہے فقط اندوہ و دلگيري
ترے دين و ادب سے آ رہي ہے بوئے رہباني
يہي ہے مرنے والي امتوں کا عالم پيري
شياطين ملوکيت کي آنکھوں ميں ہے وہ جادو
کہ خود نخچير کے دل ميں ہو پيدا ذوق نخچيري
چہ بے پروا گذشتند از نواے صبحگاہ من
کہ برد آں شور و مستي از سيہ چشمان کشميري


سمجھا لہو کي بوند اگر تو اسے تو خير
دل آدمي کا ہے فقط اک جذبہء بلند
گردش مہ و ستارہ کي ہے ناگوار اسے
دل آپ اپنے شام و سحر کا ہے نقش بند
جس خاک کے ضمير ميں ہے آتش چنار
ممکن نہيں کہ سرد ہو وہ خاک ارجمند


کھلا جب چمن ميں کتب خانہء گل
نہ کام آيا ملا کو علم کتابي
متانت شکن تھي ہوائے بہاراں
غزل خواں ہوا پيرک اندرابي
کہا لالہ آتشيں پيرہن نے
کہ اسرار جاں کي ہوں ميں بے حجابي
سمجھتا ہے جو موت خواب لحد کو
نہاں اس کي تعمير ميں ہے خرابي
نہيں زندگي سلسلہ روز و شب کا
نہيں زندگي مستي و نيم خوابي
حيات است در آتش خود تپيدن
خوش آں دم کہ ايں نکتہ را بازيابي
اگر ز آتش دل شرارے بگيري
تواں کرد زير فلک آفتابي


آزاد    کي رگ سخت ہے مانند رگ سنگ
محکوم کي رگ نرم ہے مانند رگ تاک
محکوم کا دل مردہ و افسردہ و نوميد
آزاد کا دل زندہ و پرسوز و طرب ناک
آزاد کي دولت دل روشن، نفس گرم
محکوم کا سرمايہ فقط ديدئہ نم ناک
محکوم ہے بيگانہء اخلاص و مروت
ہر چند کہ منطق کي دليلوں ميں ہے چالاک
ممکن نہيں محکوم ہو آزاد کا ہمدوش
وہ بندئہ افلاک ہے، يہ خواجہ افلاک


تمام    عارف و عامي خودي سے بيگانہ
کوئي بتائے يہ مسجد ہے يا کہ ميخانہ
يہ راز ہم سے چھپايا ہے مير واعظ نے
کہ خود حرم ہے چراغ حرم کا پروانہ
طلسم بے خبري، کافري و ديں داري
حديث شيخ و برہمن فسون و افسانہ
نصيب خطہ ہو يا رب وہ بندئہ درويش
کہ جس کے فقر ميں انداز ہوں کليمانہ
چھپے رہيں گے زمانے کي آنکھ سے کب تک
گہر ہيں آب ولر کے تمام يک دانہ

دگرگوں جہاں ان کے زور عمل سے
بڑے معرکے زندہ قوموں نے مارے
منجم کي تقويم فردا ہے باطل
گرے آسماں سے پرانے ستارے
ضمير جہاں اس قدر آتشيں ہے
کہ دريا کي موجوں سے ٹوٹے ستارے
زميں کو فراغت نہيں زلزلوں سے
نماياں ہيں فطرت کے باريک اشارے
ہمالہ کے چشمے ابلتے ہيں کب تک
خضر سوچتا ہے ولر کے کنارے



نشاں    يہي ہے زمانے ميں زندہ قوموں کا
کہ صبح و شام بدلتي ہيں ان کي تقديريں
کمال صدق و مروت ہے زندگي ان کي
معاف کرتي ہے فطرت بھي ان کي تقصيريں
قلندرانہ ادائيں، سکندرانہ جلال
يہ امتيں ہيں جہاں ميں برہنہ شمشيريں
خودي سے مرد خود آگاہ کا جمال و جلال
کہ يہ کتاب ہے، باقي تمام تفسيريں
شکوہ عيد کا منکر نہيں ہوں ميں، ليکن
قبول حق ہيں فقط مرد حر کي تکبيريں
حکيم ميري نواؤں کا راز کيا جانے
ورائے عقل ہيں اہل جنوں کي تدبيريں


چہ    کافرانہ قمار حيات مي بازي
کہ با زمانہ بسازي بخود نمي سازي
دگر بمدرسہ ہائے حرم نمي بينم
دل جنيد و نگاہ غزالي و رازي
بحکم مفتي اعظم کہ فطرت ازليست
بدين صعوہ حرام است کار شہبازي
ہماں فقيہ ازل گفت جرہ شاہيں را
بآسماں گروي با زميں نہ پروازي
منم کہ توبہ نہ کردم ز فاش گوئي ہا
ز بيم ايں کہ بسلطاں کنند غمازي
بدست ما نہ سمرقند و نے بخارا ايست
دعا بگو ز فقيراں بہ ترک شيرازي



ضمير مغرب ہے تاجرانہ، ضمير مشرق ہے راہبانہ
وہاں دگرگوں ہے لحظہ لحظہ، يہاں بدلتا نہيں زمانہ
کنار دريا خضر نے مجھ سے کہا بہ انداز محرمانہ
سکندري ہو، قلندري ہو، يہ سب طريقے ہيں ساحرانہ
حريف اپنا سمجھ رہے ہيں مجھے خدايان خانقاہي
انھيں يہ ڈر ہے کہ ميرے نالوں سے شق نہ ہو سنگ آستانہ
غلام قوموں کے علم و عرفاں کي ہے يہي رمز آشکارا
زميں اگر تنگ ہے تو کيا ہے، فضائے گردوں ہے بے کرانہ
خبر نہيں کيا ہے نام اس کا، خدا فريبي کہ خود فريبي
عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدير کا بہانہ
مري اسيري پہ شاخ گل نے يہ کہہ کے صياد کو رلايا
کہ ايسے پرسوز نغمہ خواں کا گراں نہ تھا مجھ پہ آشيانہ



حاجت نہيں اے خطہ گل شرح و بياں کي
تصوير ہمارے دل پر خوں کي ہے لالہ
تقدير ہے اک نام مکافات عمل کا
ديتے ہيں يہ پيغام خدايان ہمالہ
سرما کي ہواؤں ميں ہے عرياں بدن اس کا
ديتا ہے ہنر جس کا اميروں کو دوشالہ
اميد نہ رکھ دولت دنيا سے وفا کي
رم اس کي طبيعت ميں ہے مانند غزالہ
حاجت نہيں اے خطہ گل شرح و بياں کي
تصوير ہمارے دل پر خوں کي ہے لالہ
تقدير ہے اک نام مکافات عمل کا
ديتے ہيں يہ پيغام خدايان ہمالہ
سرما کي ہواؤں ميں ہے عرياں بدن اس کا
ديتا ہے ہنر جس کا اميروں کو دوشالہ
اميد نہ رکھ دولت دنيا سے وفا کي
رم اس کي طبيعت ميں ہے مانند غزالہ


خود آگاہي نے سکھلا دي ہے جس کو تن فراموشي
حرام آئي ہے اس مرد مجاہد پر زرہ پوشي



آں    عزم بلند آور آں سوز جگر آور
شمشير پدر خواہي بازوے پدر آور



غريب    شہر ہوں ميں، سن تو لے مري فرياد
کہ تيرے سينے ميں بھي ہوں قيامتيں آباد
مري نوائے غم آلود ہے متاع عزيز
جہاں ميں عام نہيں دولت دل ناشاد
گلہ ہے مجھ کو زمانے کي کور ذوقي سے
سمجھتا ہے مري محنت کو محنت فرہاد
'' صدائے تيشہ کہ بر سنگ ميخورد دگر است
خبر بگير کہ آواز تيشہ و جگر است''
----------




سر اکبر    حيدري، صدر اعظم حيدر آباد دکن کے نام
'يوم اقبال' کے موقع پر توشہ خانہ حضور نظام کي طرف سے ، جو
صاحب صدر اعظم کے ماتحت ہے ايک ہزار روپے کا چيک بطور
تواضع وصول ہونے پر


تھا يہ اللہ کا فرماں کہ شکوہ پرويز
دو قلندر کو کہ ہيں اس ميں ملوکانہ صفات
مجھ سے فرمايا کہ لے، اور شہنشاہي کر
حسن تدبير سے دے آني و فاني کو ثبات
ميں تو اس بار امانت کو اٹھاتا سر دوش
کام درويش ميں ہر تلخ ہے مانند نبات
غيرت فقر مگر کر نہ سکي اس کو قبول
جب کہا اس نے يہ ہے ميري خدائي کي زکات




عجم    ہنوز نداند رموز ديں، ورنہ
ز ديوبند حسين احمد! ايں چہ بوالعجبي است
سرود بر سر منبر کہ ملت از وطن است
چہ بے خبر ز مقام محمد عربي است
بمصطفي برساں خويش را کہ ديں ہمہ اوست
اگر بہ او نرسيدي ، تمام بولہبي است



حضرت انسان


جہاں ميں دانش و بينش کي ہے کس درجہ ارزاني
کوئي شے چھپ نہيں سکتي کہ يہ عالم ہے نوراني
کوئي ديکھے تو ہے باريک فطرت کا حجاب اتنا
نماياں ہيں فرشتوں کے تبسم ہائے پنہاني
يہ دنيا دعوت ديدار ہے فرزند آدم کو
کہ ہر مستور کو بخشا گيا ہے ذوق عرياني
يہي فرزند آدم ہے کہ جس کے اشک خونيں سے
کيا ہے حضرت يزداں نے درياؤں کو طوفاني
فلک کو کيا خبر يہ خاکداں کس کا نشيمن ہے
غرض انجم سے ہے کس کے شبستاں کي نگہباني
اگر مقصود کل ميں ہوں تو مجھ سے ماورا کيا ہے
مرے ہنگامہ ہائے نو بہ نو کي انتہا کيا ہے؟



Picture
Picture

         Amir Khusro


Mohay apnay hi rung mein rung lay,
Tu to saaheb mera Mehboob-e-Ilaahi;
Mohay apnay hi rung mein……
Humri chundariya, piyaa ki pagariya,
Woh to donon basanti rung day;
Tu to saaheb mera …….
Jo kuch mangay rung ki rungaai,
Mora joban girvi rakhlay;
Tu to saaheb mera…….
Aan pari darbaar tehaaray,
Mori laaj saram sab rakh lay;
Tu to saaheb mera Mehboob-e-Ilaahi,
Mohay apnay hi rung mein rung lay.

Dye me in your hue, my love,
You are my man, oh beloved of Almighty;
Dye me in your hue.
My scarf, and the beloved’s turban,
Both need to be dyed in the hue of spring;
Whatever be the price for dyeing, ask for it,
You can have my blossoming youth in mortgage;
Dye me in your hue.
I have come and fallen at your door step,
For you to safeguard my pride, my dignity,
You are my man, Oh beloved of Almighty,
Dye me in your hue.

-------------------------------------------------------------------


Chhap tilak sab cheeni ray mosay naina milaikay
Chhap tilak sab cheeni ray mosay naina milaikay
Prem bhatee ka madhva pilaikay
Matvali kar leeni ray mosay naina milaikay
Gori gori bayyan, hari hari churiyan
Bayyan pakar dhar leeni ray mosay naina milaikay
Bal bal jaaon mein toray rang rajwa
Apni see kar leeni ray mosay naina milaikay
Khusrau Nijaam kay bal bal jayyiye
Mohay Suhaagan keeni ray mosay naina milaikay
Chhap tilak sab cheeni ray mosay naina milaikay

You've taken away my looks, my identity, by just a glance.
By making me drink the wine of love-potion,
You've intoxicated me by just a glance;
My fair, delicate wrists with green bangles in them,
Have been held tightly by you with just a glance.
I give my life to you, Oh my cloth-dyer,
You've dyed me in yourself, by just a glance.
I give my whole life to you Oh, Nijam,
You've made me your bride, by just a glance.

---------------------------------------------------------------


Man kunto maula,
Fa Ali-un maula
Man kunto maula.
Dara dil-e dara dil-e dar-e daani.
Hum tum tanana nana, nana nana ray
Yalali yalali yala, yalayala ray Man tunko maula......

"Whoever accepts me as a master,
Ali is his master too."
(The above is a hadith - a saying of the Prophet Mohammad (PBH).
Rest of the lines are tarana bols that are generally meaningless
and are used for rhythmic chanting by Sufis.)


-------------------------------------------------------------------


Aaj basant manaalay suhaagun,
Aaj basant manaalay;
Anjan manjan kar piya mori,
Lambay neher lagaaye;
Tu kya sovay neend ki maasi,
So jaagay teray bhaag, suhaagun,
Aaj basant manalay…..;
Oonchi naar kay oonchay chitvan,
Ayso diyo hai banaaye;
Shaah-e Amir tohay dekhan ko,
Nainon say naina milaaye,
Suhaagun, aaj basant manaalay.

Rejoice, my love, rejoice,
Its spring here, rejoice.
Bring out your lotions and toiletries,
And decorate your long hair.
Oh, you’re still enjoying your sleep, wake-up.
Even your destiny has woken up,
Its spring here, rejoice.
You snobbish lady with arrogant looks,
The King Amir is here to see you;
Let your eyes meet his,
Oh my love, rejoice;
Its spring here again.


----------------------------------------------------------------


Bahut Kathin hai dagar panghat ki,
Kaisay main bhar laaun madhva say matki?
Paniya bharan ko main jo gayi thi,
Daud jhapat mori matki patki.
Bahut kathin hai dagar panghat ki.
Khusrau Nijaam kay bal bal jayyiye
Laaj rakho moray ghoonghat pat ki.
Bahut kathin hai dagar panghat ki.

The road to the Well is much too difficult,
How to get my pot filled?
When I went to fill the water,
In the furor, I broke my pot.
Khusrau has given his whole life to you Oh, Nijam.
Would you please take care of my veil (or self respect),
The road to the well is much too difficult.


-------------------------------------------------------------------


Tori soorat kay balihaari, Nijaam
Tori soorat kay balihaari.
Sab sakhiyan mein chundar meri mailee,
Dekh hansain nar naari, Nijaam........
Ab ke bahar chundar meri rang de,
Piya rakh lay laaj hamari, Nijaam......
Sadqa baba Ganj Shakar ka,
Rakh lay laaj hamari, Nijaam........
Qutab, Farid mil aaye barati,
'Khusrau' raajdulaari, Nijaam.......
Kouo saas kouo nanad say jhagday,
Hamko aas tihaari, Nijaam.....
Tori soorat kay balihaari, Nijaam.

Beholding your appearance, Oh Nijaam
I offer myself in sacrifice.
Amongst all the girls, my scarf is the most soiled,
Look, the girls are laughing at me.
This spring, please dye my scarf for me,
Oh Nijaam, protect my honour.
In the name of Ganj-e Shakar (Nizamuddin Aulia's pir),
Protect my honour, Oh beloved Nijaam.
Qutab and Farid have come in the wedding procession,
And Khusrau is the loving bride, Oh Nijaam.
Some have to fight with the mother-in-law,
While some with sisters-in-law,
But I have you for support, Oh Nijaam

---------------------------------------------------------------------


Main to piya say naina lada aayi ray,
Ghar naari kanwari kahay so karay,
Main to piya say naina lada aayi ray.
Sohni suratiya, mohni muratiya,
Main to hriday kay peechay samaa aayi ray;
Khusrau Nijaam kay bal bal jayyiye
Main to anmol cheli kaha aayi ray,
Ghar naari kanwari kahay so karay,
Main to piya say naina lada aayi ray.

Hey, I’ve just had an affair with my darling,
Don’t care what the neighbourhood girls say;
Just had an affair with my darling.
Oh, his beautiful face, charming like an idol,
I’ve just made a place in the bottom of his heart.
I, Khusrau, give my life to Nizamuddin in sacrifice,
I’ve just had him call me his most favourite disciple;
Don’t care what the neighbourhood girls say,
Just had an affair with my darling

------------------------------------------------------------------

Amman meray baba ko bhaijo ri - Ke saavan ayaa
Beti tera baba to boodha ri - Ke saavan ayaa
Amman meray bhai ko bhaijo ri - Ke saavan ayaa
Beti tera bhai to baala ri - Ke saavan ayaa
Amman meray mamu ko bhaijo ri - Ke saavan ayaa
Beti tera mamu to baanka ri - Ke saavan ayaa



Dear Mom, send my dad across; the rainy season has come.
Oh, dear daughter, how can I?
Your dad's too old; the rainy season has come.
Dear Mom, send my brother across; the rainy season has come.
Oh, dear daughter, how can I?
Your brother's too young; the rainy season has come.
Dear Mom, send my uncle across; the rainy season has come.
Oh, dear daughter, how can I?
Your uncle's too dandy; the rainy season has come.

------------------------------------------------------------------------

Aaj rung hai hey maan rung hai ri
Moray mehboob kay ghar rang hai ri
Sajan milaavra, sajan milaavra,
Sajan milaavra moray aangan ko
Aaj rung hai........
Mohay pir paayo Nijamudin aulia
Nijamudin aulia mohay pir payoo
Des bades mein dhoondh phiree hoon
Toraa rung man bhayo ri......,
Jag ujiyaaro, jagat ujiyaaro,
Main to aiso rang aur nahin dekhi ray
Main to jab dekhun moray sung hai,
Aaj rung hai hey maan rung hai ri.

(It is almost impossible to translate the word rung into English. It is not colour, hue or anything like that. May be something like glow or brilliance or gorgeousness may come close to it. There are many different legends explaining the use of this word in the qawwali. Most of them point to the fact that Amir Khusrau sang these line ecstatically when he came back to his mother after meeting Nizamuddin Aulia for the first time, after a long search for an ideal sufi master – reason why the lines are addressed to the mother.)


What a glow everywhere I see, Oh mother, what a glow;
I’ve found the beloved, yes I found him,
In my courtyard;
I have found my pir Nizamuddin Aulia.
I roamed around the entire world,
looking for an ideal beloved;
And finally this face has enchanted my heart.
The whole world has been opened for me,
Never seen a glow like this before.
Whenever I see now, he is with me,
Oh beloved, please dye me in yourself;
Dye me in the colour of the spring, beloved;
What a glow, Oh, what a glow.

-------------------------------------------------------------------------------


Kaahay ko biyaahi bides, ray, lakhi baabul moray,
Kaahay ko biyaahi bides........
Bhayiyon ko diye babul mehlay do-mehlay,
Hum ko diya pardes, ray, lakhi babul......
Hum to hain babul teray khoontay ki gayyan,
Jid haankay hank jaayen, ray, lakhi babul......
Hum to hain babul teray belay ki kaliyan,
Ghar ghar maangi jaayen, ray lakhi babul......
Hum to hain babul teray pinjray ki chidiyan,
Bhor bhaye ud jaayen, ray, lakhi babul......
Taaqon bhari mainay gudiyan jo chhodeen
Choota sahelin ka saath, ray lakhi babul......
Kothay talay say palakiya jo nikli,
Beeran nay khaayi pachhad, ray, lakhi babul.....
Dolee ka parda uthakar jo dekha,
Aaya piya ka des, ray, lakhi babul moray.
Kaahay ko biyaahi bides, ray, lakhi baabul moray.

Why did you part me from yourself, dear father, why?
You’ve given houses with two stories to my brothers,
And to me, a foreign land? Why dear father, why?
We (daughters) are just cows tied to your peg,
Will move on to where ever you drive us to, dear father.
We are just flower-buds of your garden,
And are asked for, in every household, dear father.
We are just birds from your cage,
Will fly off when its dawn again, dear father.
I’ve left at home, alcoves full of dolls;
And parted from my buddies too, dear father.
When my palanquin passed beneath the terrace,
My brother fainted and fell, dear father.
As I remove the curtain from the palanquin,
I see we’ve reached the beloved’s house, dear father.
Why did you part me from yourself, dear father, why?

--------------------------------------------------------------------------


Hajrat khaja sung khailiye dhamal,
Hajrat khaja sung.......
Baais khaja mil bun bun aaye,
Taamay hajrat Rasool saheb-e jamaal
Hajrat khaja sung khailiye.......
Arab yaar tori basant manaayo,
Sadaa rakhiyo laal gulaal.....
Hajrat khaja sung khailiye dhamal.

(Dhamal could be a song or a musical genre that aroused ecstasy amongst the sufis. It was usually performed at special occasions such as Basant.)

Let us play Dhamal with Hazrat Khwaja,
All dresses up, the twenty two saints have come,
So let us play Dhamal;
Give respect to our exalted Hazrat Rasool.
We celebrate spring for you, Oh Arab friend.
(This Arab friend is not meant for the Prophet)
Keep the colourful spirit alive for ever.
Let us play Dhamal with Hazrat Khwaja.

------------------------------------------------------------------------------

Sakal bun (or Saghan bhun) phool rahi sarson,
Sakal bun phool rahi.....
Umbva phutay, tesu phulay, koyal bolay daar daar,
Aur gori karat singaar,
Malaniyan gadhwa lay aayin karson,
Sakal bun phool rahi.....
Tarah tarah kay phool lagaaye,
Lay gadhwa haathan mein aaye.
Nijamudin kay darwazay par,
Aawan keh gaye aashaq rung,
Aur beet gaye barson.
Sakal bun phool rahi sarson.

The yellow mustard is blooming in every field,
Mango buds are clicking open, other flowers too;
The koyal chirps from branch to branch,
And the maiden tries her make-up,
The gardener-girls have brought bouquets.
Colourful flowers of all kinds,
In hands everyone’s bringing;
But Aashiq-rung (the lover), who had promised to come
To Nizamuddin’s house in spring,
Hasn’t turned up - its been years.
The yellow mustard is blooming in every field.

------------------------------------------------------------------------------

Mora jobana navelara, bhayo hai gulaal,
Kaisi dhar dini bikas mori maal.
Mora jobana navelara.......
Nijamudin aulia ko koyi samajhaaye,
Jyon jyon manaon, wo to rootha hi jaaye.
Mora jobana navelara......
Chudiyan phod palang pe daaron,
Is cholee ko doon main aag lagaai.
Sooni saij darawan laagay, virah agni mohay dus dus jaaye
Mora jobana navelara.......


My youth is budding, is full of passion;
How can I spend this time without my beloved?
Would someone please coax Nizamuddin Aulia,
The more I appease him, the more annoyed he gets;
My youth is budding……
Want to break these bangles against the cot,
And throw up my blouse into fire,
The empty bed scares me,
The fire of separation keeps burning me.
Oh, beloved. My youth is budding.

--------------------------------------------------------------------------------

Har qaum raast raahay, deen-e wa qibla gaahay,
Mun qibla raast kardam, bar samt kajkulaahay.
Sansaar har ko poojay, kul ko jagat sarahay,
Makkay mein koyi dhoondhay, Kaashi ko koi jaaye,
Guyyian main apnay pi kay payyan padun na kaahay.
Har qaum raast raahay, deen-e wa qibla gaahay.....

Every sect has a faith, a direction (Qibla) to which they turn,
I have turned my face towards the crooked cap (of Nizamudin Aulia)
The whole world worships something or the other,
Some look for God in Mecca, while some go to Kashi (Banaras),
So why can’t I, Oh wise people, fall into my beloved’s feet?
Every sect has a faith, a Qibla.

-----------------------------------------------------------------------------------

Chashmay mastay ajabay zulf daraazay ajabay,
Mai parastay ajabay fitna darazay ajabay,
Behray qatlam chu kushad taighe-nihaan sar basajud,
Oo ba-naazay ajabay mun be-neyaazay ajabay,
Turk taazay ajabay sho’bada baazay ajabay;
Kajkulahay ajabay arbada saazay ajabay;
Haq mago kalma-e kufr ast darein ja Khusrau;
Raaz daanay ajabay saaheb-e raaz-e ajabay.

O wondrous ecstatic eyes, o wondrous long locks,
O wondrous wine worshipper, o wondrous mischievous sweetheart.
As he draws the sword, I bow my head in prostration so as to be killed,
O wondrous is his beneficence, o wondrous my submission.
O wondrous amorous teasing, o wondrous beguiling,
O wondrous tilted cap, o wondrous tormentor.
Do not reveal the Truth; in this world blasphemy prevails, Khusrau;
O wondrous source of mystery, o wondrous knower of secrets.
(This translation from Regula B.Qureshi)

---------------------------------------------------------------------------------

FARSI


Naala-e zanjeer-e Majnun arghanoon-e aashiqanast
Zauq-e aan andaza-e gosh-e ulul-albaab neest


The creaking of the chain of Majnun is the orchestra of the lovers,
To appreciate its music is quite beyond the ears of the wise.



Gar jamaal-e yaar nabuad baa khayalash hum khusham,
Khaana-e darvesh ra sham’ee ba az mehtaab neest.


If I cannot see her, at least I can think of her, and so be happy;
To light the beggar’s hut no candle is better than moonlight.

---------------------------------------------------------------------------------


Dilam dar aashiqui aawareh shud aawareh tar baada,
Tanam az bedilee beechareh shud beechareh tar baada.


My heart is a wanderer in love, may it ever remain so.
My life’s been rendered miserable in love,
may it grow more and more miserable.

-----------------------------------------------------------------------------------

Gar khalq jahaan zinda bajaanand wa lekin,
Mun zinda-e ishqam ki shaheed-e gham-e yaaram.


People think they are alive because they have soul in them,
But I am alive because I have love in myself,
And I’m a martyr due to the beloved’s affliction,
(for, to a lover, nothing is dearer than
the affliction brought forth by the beloved).

--------------------------------------------------------------------------------------

Zabaan-e yaar-e mun Turkie, wa mun Turkie nami daanum,
Che khush boodi agar boodi zabaanash dar dahanay mun.


My beloved speaks Turkish, and Turkish I do not know;
How I wish if her tongue would have been in my mouth.



------------------------------------------------------------------------------------

Peeri-o-shaahid parasti naakhush ast,
Khusrova taaki pareshaani hunooz.


Old age and lovemaking do not go together;
But O Khusrau, you still remain a proof against this reasoning.

------------------------------------------------------------------------------------

Tu shabana mi numaai be barkay boodi imshab,
Ke hunooz chashm-e mastat asar-e khumar daarad.


You look sleepless, in whose embrace did you pass the night;
Your intoxicated eye has still the signs of tipsiness.

-----------------------------------------------------------------------------------


Ba khak darat rau ast maara,
Gar surmah bechashm dar neaayad.


The dust of your doorstep is just the right thing to apply,
If Surmah (kohl powder) does not show its beauty in the eye!

----------------------------------------------------------------------------------


Ze shab bedaariye mun taa seher chashmash kujaa daanad?
Ki O shab taa seher kaaray bajuz khuftan nami daanad.


How can her eyes reflect any sympathy
With my night-long wakefulness?
For she herself knows of nothing
In the night, except sleeping.

-----------------------------------------------------------------------------------


Mun tu shudam tu mun shudi,mun tun shudam tu jaan shudi
Taakas na guyad baad azeen, mun deegaram tu deegari


I have become you, and you me,
I am the body, you soul;
So that no one can say hereafter,
That you are are someone, and me someone else.

----------------------------------------------------------------------------------

Kafir-e-ishqam musalmani mara darkaar neest
Har rag-e mun taar gashta hajat-e zunnaar neest;
Az sar-e baaleen-e mun bar khez ay naadaan tabeeb
Dard mand-e ishq ra daroo bajuz deedaar neest;
Nakhuda dar kashti-e maagar nabashad go mubaash
Makhuda daareem mara nakhuda darkaar neest;
Khalq mi goyad ki Khusrau but parasti mi kunad
Aarey aarey mi kunam ba khalq mara kaar neest.


I am a pagan and a worshipper of love: the creed (of Muslims) I do not need;
Every vein of mine has become taunt like a wire,
the (Brahman’s) girdle I do not need.
Leave from my bedside, you ignorant physician!
The only cure for the patient of love is the sight of his beloved –
other than this no medicine does he need.
If there be no pilot in our boat, let there be none:
We have god in our midst: the sea we do not need.
The people of the world say that Khusrau worships idols.
So he does, so he does; the people he does not need,
the world he does not need.

-----------------------------------------------------------------------------------

Nami danam chi manzil bood shab jaay ki man boodam;
Baharsu raqs-e bismil bood shab jaay ki man boodam.
Pari paikar nigaar-e sarw qadde laala rukhsare;
Sarapa aafat-e dil bood shab jaay ki man boodam.
Khuda khud meer-e majlis bood andar laamakan Khusrau;
Muhammad shamm-e mehfil bood shab jaay ki man boodam.



I wonder what was the place where I was last night,
All around me were half-slaughtered victims of love,
tossing about in agony.
There was a nymph-like beloved with cypress-like form
and tulip-like face,
Ruthlessly playing havoc with the hearts of the lovers.
God himself was the master of ceremonies in that heavenly court,
oh Khusro, where (the face of) the Prophet too was shedding light
like a candle.

----------------------------------------------------------------------------------


Khabaram raseed imshab ki nigaar khuahi aamad;
Sar-e man fidaa-e raah-e ki sawaar khuahi aamad.
Ham-e aahwan-e sehra sar-e khud nihada bar kaf;
Ba-umeed aanki rozi bashikaar khuahi aamad.
Kashishi ki ishq daarad naguzaradat badinsaa;
Ba-janazah gar nayai ba-mazaar khuahi aamad.
Balabam raseed jaanam fabiya ki zindah maanam;
Pas azan ki man na-maanam bacha kar khuahi aaamad.



Tonight there came a news that you, oh beloved, would come –
Be my head sacrificed to the road along which you will come riding!
All the gazelles of the desert have put their heads on their hands
In the hope that one day you will come to hunt them….
The attraction of love won’t leave you unmoved;
Should you not come to my funeral,
you’ll definitely come to my grave.
My soul has come on my lips (e.g. I am on the point of expiring);
Come so that I may remain alive -
After I am no longer – for what purpose will you come?

------------------------------------------------------------------------------------


Bakhubi hamcho mah tabindah baashi;
Bamulk-e dilbari paayindah baashi.
Man-e darvish ra kushti baghamzah;
Karam kardi Ilahi zindah baashi.
Jafaa kam kun ki farda roz-e mehshar;
Baru-e aashiqan sharmindah baashi.
Ze qaid-e dojahan azad baasham;
Agar tu hum-nashin-e bandah baashi.
Barindi-o bashokhi hamcho Khusrau;
Hazaran khanuman barkandah baashi.


May your charming face ever shine like the full moon;
May you hold eternal sway over the domains of beauty.
By your amorous glance you have killed a poor man like me;
How magnanimous of you? May God give you a long life.
Pray do not be cruel lest you should feel ashamed of yourself
Before your lovers on the day of judgment.
I shall be set free from the bonds of the two worlds
If you become my companion for a while.
By your wanton playfulness you must have destroyed
Thousands of hearts of lovers like that of Khusrau.


----------------------------------------------------------------------------------


Ay chehra-e zeba-e tu rashk-e butan-e azari;
Har chand wasfat mikunam dar husn-az-aan zebatari.
Aafaq ra gar deedah am mehr-e butan warzeedah am;
Bisyar khuban deedah am lekin tu cheez-e degari.
Man tu shudam, tu man shudi, man tan shudam, tu jan shudi;
Taakas nagoyad baad azeen man deegaram tu deegari.
Khusrau ghareeb ast-o gada uftadah dar shehr-e shuma;
Baashad ki az behr-e khuda, su-e ghareeban bangari.


O you whose beautiful face is the envy of the idols of Azar
(Abraham's father and famous idol maker);
You remain superior to my praise.
All over the world have I traveled;
many a maiden’s love have I tasted;
Many a beauty-star have I seen; but you are something unique.
I have become you, and you me; I have become the body,
you the soul; So that none hereafter may say
that “I am someone and you someone else.”
Khusro a beggar, a stranger has come wandering to your town;
For the sake of god, have pity on this beggar
and do not turn him away from your door.


------------------------------------------------------------------------------------


Zehal-e miskin makun taghaful, duraye naina banaye batiyan;
ki taab-e hijran nadaram ay jaan, na leho kaahe lagaye chhatiyan.
Shaban-e hijran daraz chun zulf wa roz-e waslat cho umr kotah;
Sakhi piya ko jo main na dekhun to kaise kaatun andheri ratiyan.
Yakayak az dil do chashm-e jadoo basad farebam baburd taskin;
Kise pari hai jo jaa sunaave piyare pi ko hamaari batiyan.
Cho sham’a sozan cho zarra hairan hamesha giryan be ishq aan meh;
Na neend naina na ang chaina na aap aaven na bhejen patiyan.
Bahaqq-e roz-e wisal-e dilbar ki daad mara ghareeb Khusrau;
Sapet man ke waraaye raakhun jo jaaye paaon piya ke khatiyan.



Do not overlook my misery by blandishing your eyes,
and weaving tales; My patience has over-brimmed,
O sweetheart, why do you not take me to your bosom.
Long like curls in the night of separation,
short like life on the day of our union;
My dear, how will I pass the dark dungeon night
without your face before.
Suddenly, using a thousand tricks, the enchanting eyes robbed me
of my tranquil mind;
Who would care to go and report this matter to my darling?
Tossed and bewildered, like a flickering candle,
I roam about in the fire of love;
Sleepless eyes, restless body,
neither comes she, nor any message.
In honour of the day I meet my beloved
who has lured me so long, O Khusro;
I shall keep my heart suppressed,
if ever I get a chance to get to her trick.

-----------------------------------------------------------------------------------


Jan zatan burdi wa darjani hunooz;
Dard-ha daadi wa darmani hunooz.
Aashkara seen-e am bashugaafti;
Hamchunan dar seen-e pinhani hunooz.
Ma za girya chun namak bagudakhtim;
Tu bakhunda shukr afshani hunooz.


You carried the soul from (my) body – and yet,
You are still in the soul;
You have given pains – and are still the remedy;
Openly you split my breast –
Yet, you are still hidden in my heart.
You have destroyed the kingdom of my heart
With the sword of coquetry,
And are still a ruler in that place….


---------------------------------------------------------------------------------


Abr mi barad-o man shovm-e az yar-e judaa
Choon kunam dil becheneen roz zedildar judaa.
Abr baraan wa man-o yar satadah ba-widaa’
Man judaa girya kunaan, abr judaa, yaar judaa


The cloud weeps, and I become separated from my friend -
How can I separate my heart from my heart’s friend on such a day.
The cloud weeping – and I and the friend standing, bidding farewell -
I weeping separately, the clouds separately, the friend separately…..

------------------------------------------------------------------------------------